انفرادی و اجتماعی انقلاب کا راز- فلسفہ تیقن و عشق
اپنے اردگرد نظر دوڑائے، آپکو کامیاب وہی لوگ ملیں گے جنہوں نے انفرادی ذندگی میں "خود" پر یقین کیا۔ پھر ایسے کامیاب لوگ بھی ملیں گے جنہوں نے اجتماعی طور پر ایک مابعدالطبیعیاتی "خدا" پر یقین رکھا، المختصر یہ کہ دونوں میں مشترک چیز "یقین" ہے۔
فلسفہ تیقن Philosophy of Belief سے انکار نہ انفرادی ذندگی میں ممکن ہے نہ اجتماعی۔
مغرب میں نشاۃ ثانیہ کی تحریک چلی، احیائے علوم، احیائے انسانیت، انسانی عظمت کی بازیافت اور علوم جدیدہ کے ذریعے اس کا اثبات ہے لیکن اسی تحریک کی بنیادیں خاص لادینیت اور فلسفہ الحاد سے نکلتی ہیں جس نے "یقین" کی اہمیت تقریبا ختم کردی۔
عقل کو ڈرائیونگ سیٹ دے کر انسانوں کے بیچ نیچرلزم کا فلسفہ داخل کرکے انسانی عظمت کی نفی کی ۔ نیچرلزم نے انسان کی ماہئیت کو وجود پر مقدم سمجھ کر اس کے ارادے اور آزادانہ انتخاب کو دھچکا لگایا، حالانکہ انسان آزاد ہے اور اسی آزادانہ انتخاب کے تحت اپنے وجود Being کو ماہئیت عطاکرتا ہے۔
فطرت پرستی و مادہ پرستی کے حوالے سے انسانیت کی جو تعریف و تعبیر کی گئی، بیسویں صدی کے علوم نے انہیں ناقص قراردیا۔ وجودیت Existintialism تعبیروں کے ہجوم میں گم ہوکر مزید مبہم اور پیچیدہ ہوگیاہے۔
المختصر کہ لوگ بڑے پیمانے پر خدا کےمنکر بن گئے اور ان تعبیرات میں گم ہوکر "یقین کی طاقت" بھول بیٹھے۔ یاد رہے کہ خدا کے انکار کے بعد انسانیت کا کوئی واضح اور معین تصور آزادی، مساوات، عدل وانصاف اور استحکام انسانیت کی کوئی دلیل مستحکم عقلی، فکری اور علمی بنیادوں پر قائم نہیں ہوسکتی۔
کامیابی کا حل کیا ہے پھر؟
یقین اور عشق کا ایک حسین امتزاج!
فطرت کے غاروں سے ہم سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے نکل گئے۔
تاریخ کی قید سے ہم علوم تاریخ اور فلسفہ تاریخ کے ذریعے نکل گئے۔ معاشرے کی ذندان سے عمرانیاتی علوم کے ذریعے نکل گئے لیکن ایک زندان ہے جس سے ہم نہیں نکل سکے اور وہ ہے "اپنی ذات"
انسان کی دو صورتیں ہیں،
"بشر" جو اس کا فطرتی وجود Being ہے۔ یہ بائیولوجیکل ہے۔
دوسرا "انسان" جو اس کا مقصود یا Becoming ہے۔ یہ سوشیولوجیکل ہے۔
تمام انسان "بشر" ہیں لیکن انسان نہیں۔ "انسان" جو خاص صفات کو اپنانے کے بعد بنتاہے، وہ بہت کم تھے اور ہیں۔ انسان بننے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے کمالات میں ترقی کی مسلسل کوشش، طویل جدوجہد اور آئیڈیل خصوصیات کو اپناناہے۔ یہی آزادانہ انتخاب اور چوائس ہے۔
جیسے اوپر ذکر کیا کہ ہم "اپنی ذات" میں قید ہیں اور پھر ہمیں آئیڈیل خصوصیات اپناکر ایک کامیاب انسان بنناہے۔
خود کی قید سے مراد ہم اپنے خواہشات نفس کے تابع ہیں، خود کے غلام ہیں، کسی بڑے مقصد یا انقلاب کے لیے اپنےنفس اور خواہشات کے ساتھ لڑ نہیں سکتے، کیونکہ ہم اپنی قید میں ہیں۔
خود سے رہائی کیسے ممکن ہے؟
دوبارہ بتاتاہوں، یقین اور عشق کا ایک حسین امتزاج!
یقین سے مراد اپنے واضح مقصد پر ثابت قدمی اور استقامت ہے۔ اس کے لیے عقلی و منطقی جواز بھی مہیاکیے جاسکتے ہیں اور عقلی علوم کے ذریعے اس کی اہمیت کا پردہ چاک کیا جاسکتاہے۔ کامیابی اور انقلاب کے لیے "یقین" ریڑھ کی ہڈی ہے۔
پھر عشق ہے۔ یہ "اپنی ذات کی قید سے رہائی"کا وسیلہ ہے۔ عشق میں انسان منطق کے علت و معلول کے سلسلوں میں جکڑا ہوا نہیں ہوتا۔ یہاں عقل نہیں پہنچ سکتی۔ یہ اپنی ذات کی فناء ہے، ایثارہے، اپنے شعور کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی ذات کو فناء کردینے کا نام عشق ہے۔ عقل کے نزد یہ خود سوزی ہے، جہالت ہے۔ لیکن عشق کےبغیر بڑے مقصد کا حصول، انقلاب اور کامیابی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
عشق دل کی آنکھوں سے دیکھتاہے، جو سنتاہے، دل کے کانوں سے سنتاہے، عقل سے اسے بیر ہے، دشمنی ہے کیونکہ عقل چالاک ہے، عشق سادہ ہے، عقل مکار ہے،عشق فریب خوردہ ہے، عقل دوراندیش ہے اور عشق آفت کا ٹکڑا، عقل سوچتی ہے،عشق کرتاہے، عقل نشیب وفراز کے چکر میں گرفتار رہتی ہے لیکن عشق اس طرح کے توہمات اور وسوسوں سے یکسر آزاد اور بے پرواہ ہوتاہے۔
غرض یہ کہ انقلاب اور کامیابی کا سارا دارومدار "عشق و عقل کے حسین امتزاج" پر ہے۔ کیونکہ یقین صبر و استقامت جبکہ عشق آتش نمرود میں بے خوف و خطر کود کر کچھ پانے اور مکمل "آزادی" اور کامیابی کو پالیناہے۔
رادھا کرشن لکھتے ہیں؛
"ہم ایک سازش کو ترتیب دیں گے، کیسی سازش؟
وہ سازش جس میں انسان، خدا اور عشق مل کر ایک نئے انسان کی تخلیق کریں گے".🥰
Tauqeer Ahmad Yousafzai
Comments